Creation of Adam A.S by Mufti Khurram Rehmani

Creation of Adam A.S by Mufti Khurram Rehmani

Islamic thoughts and facts

Creation of Adam A.S

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مُبَسْمِلاً وَمُحَمِّدًا وَّمُصَلِّیًّا

   تخلیق آدم علیہ السلام

    حضرت آد م علیہ السلام کی نہ ماں ہیں نہ باپ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مٹی سے بنایا ہے۔ چنانچہ روایت ہے کہ جب خداوند قدوس عزوجل نے آپ کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عزرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین سے ایک مٹھی مٹی لائیں۔ حکمِ خداوندی عزوجل کے مطابق حضرت عزرائیل علیہ السلام نے آسمان سے اتر کر زمین سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی تو پوری روئے زمین کی اوپری پرت چھلکے کے مانند اتر کر آپ کی مٹھی میں آگئی۔ جس میں ساٹھ رنگوں اور مختلف کیفیتوں والی مٹیاں تھیں یعنی سفید و سیاہ اور سرخ و زرد رنگوں والی اور نرم و سخت، شیریں و تلخ، نمکین و پھیکی وغیرہ کیفیتوں والی مٹیاں شامل تھی ۔

 (تذکرۃ الانبیاء، ص ۴۸)

پھر اس مٹی کو مختلف پانیوں سے گوندھنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ ایک مدت کے بعد یہ چپکنے والی بن گئی۔ پھر ایک مدت تک یہ گوندھی گئی تو کیچڑ کی طرح بو دار گارا بن گئی۔ پھر یہ خشک ہو کر کھنکھناتی اور بجتی ہوئی مٹی بن گئی۔ پھر اس مٹی سے حضرت آدم علیہ السلام کا پُتلا بنا کر جنت کے دروازے پر رکھ دیا گیا جس کو دیکھ دیکھ کر فرشتوں کی جماعت تعجب کرتی تھی۔ کیونکہ فرشتوں نے ایسی شکل و صورت کی کوئی مخلوق کبھی دیکھی ہی نہیں تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس پتلے میں روح کو داخل ہونے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ روح داخل ہو کر جب آپ کے نتھنوں میں پہنچی تو آپ کو چھینک آئی اور جب روح زبان تک پہنچ گئی، تو آپ نے ”الحمدللہ” پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”یرحمک اللہ”یعنی اللہ تعالیٰ تم پر رحمت فرمائے۔ اے ابو محمد (آدم)میں نے تم کو اپنی حمد ہی کے لئے بنایا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ پورے بدن میں روح پہنچ گئی اور آپ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

 (تفسیر خازن،ج۱، ص ۴۳،پ۱، البقرۃ :۳۰)

ترمذی اور ابو داؤد میں یہ حدیث ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا جس مٹی سے بنایا گیا چونکہ وہ مختلف رنگوں اور مختلف کیفیتوں کی مٹیوں کا مجموعہ تھی اسی لئے آپ کی اولاد یعنی انسانوں میں مختلف رنگوں اور قسم قسم کے مزاجوں والے لوگ ہوگئے۔

(تفسیر صاوی،ج۱،ص ۴۹،پ۱،البقرۃ :۳۰)

حضرت آدم علیہ السلام کی کنیت ابو محمد یا ابو البشر اور آپ کا لقب ”خلیفۃ اللہ”ہے اور آپ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔ آپ نے نو سو ساٹھ برس کی عمر پائی اور بوقت وفات آپ کی اولاد کی تعداد ایک لاکھ ہوچکی تھی۔ جنہوں نے طرح طرح کی صنعتوں اور عمارتوں سے زمین کو آباد کیا۔ (تفسیر صاوی،ج۱،ص ۴۸،پ۱،البقرۃ :۳۰)

قرآن مجید میں بار بار اس مضمون کا بیان کیا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق مٹی سے ہوئی۔ چنانچہ سورئہ آل عمران میں ارشاد فرمایا کہ:۔

اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿59﴾ (پ3،اٰل عمران: 59)

ترجمہ کنزالایمان :۔ عیسیٰ کی کہاوت اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہو جا وہ فوراً ہوجاتا ہے۔

دوسری آیت میں اس طرح فرمایا کہ:۔

اِنَّا خَلَقْنٰہُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ لَّازِبٍ  (پ23،الصّافات: 11)

ترجمہ کنزالایمان:۔بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا۔

کہیں یہ فرمایا کہ:۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوۡنٍ ﴿ۚ26﴾

                (پ14،الحجر:26)

ترجمہ کنزالایمان:۔ اور بیشک ہم نے آدمی کو بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی۔

حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا:۔جب حضرت آدم علیہ السلام کو خداوند ِ قدوس نے بہشت میں رہنے کا حکم دیا تو آپ جنت میں تنہائی کی وجہ سے کچھ ملول ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نیند کا غلبہ فرمایا اور آپ گہری نیند سو گئے تو نیند ہی کی حالت میں آپ کی بائیں پسلی سے اللہ تعالیٰ نے حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پیدا فرمادیا۔

جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک نہایت ہی خوبصورت اور حسین و جمیل عورت آپ کے پاس بیٹھی ہوئی ہے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ تم کون ہو؟ اور کس لئے یہاں آئی ہو؟ تو حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ میں آپ کی بیوی ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے پیدا فرمایا ہے تاکہ آپ کو مجھ سے اُنس اور سکون قلب حاصل ہو۔ اور مجھے آپ سے اُنسیت اور تسکین ملے اور ہم دونوں ایک دوسرے سے مل کر خوش رہیں اور پیار و محبت کے ساتھ زندگی بسر کریں اور خداوند ِ قدوس عزوجل کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہیں۔  (تفسیر روح المعانی، ج۱، ص ۳۱۶،پ۱، البقرۃ :۳۵)

قرآن مجید میں چند مقامات پر اللہ تعالیٰ نے حضرت حواء کے بارے میں ارشاد فرمایا ، مثلاً!

وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّنِسَآءً ۚ

(پ4،النساء :1)

ترجمہ کنزالایمان:۔ اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت پھیلا دیئے۔

درسِ ہدایت:۔حضرت آدم و حواء علیہما السلام کی تخلیق کا واقعہ مضامین قرآن مجید کے ان عجائبات میں سے ہے جس کے دامن میں بڑی بڑی عبرتوں اور نصیحتوں کے گوہر آبدار کے انبار پوشیدہ ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا اور حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا فرمایا۔ قرآن کے اس فرمان سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ خلاّق عالم جل جلالہ نے انسانوں کو چار طریقوں سے پیدا فرمایا ہے:

(اول)یہ کہ مرد و عورت دونوں کے ملاپ سے ،جیسا کہ عام طور پر انسانوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں صاف صاف اعلان ہے کہ

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ٭ۖ  (پ29،الدھر : 2)

ترجمہ کنزالایمان:۔بےشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا ملی ہوئی منی سے

(دوم)یہ کہ تنہا مرد سے ایک انسان پیدا ہو۔ اور وہ حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا فرمادیا۔

(سوم)یہ کہ تنہا ایک عورت سے ایک انسان پیدا ہو۔ اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو کہ پاک دامن کنواری بی بی مریم علیہا السلام کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔

(چہارم)یہ کہ بغیر مرد و عورت کے بھی ایک انسان کو خداوند ِ قدوس عزوجل نے پیدا فرما دیا اور وہ انسان حضرت آدم علیہ السلام ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مٹی سے بنا دیا۔

ان واقعات سے مندرجہ ذیل اسباق کی طرف راہنمائی ہوتی ہے۔

(۱)خداوند ِ قدوس ایسا قادر و قیوم اور خلاّق ہے کہ انسانوں کو کسی خاص ایک ہی طریقے سے پیدا فرمانے کا پابند نہیں ہے، بلکہ وہ ایسی عظیم قدرت والا ہے کہ وہ جس طرح چاہے انسانوں کو پیدا فرما دے۔ چنانچہ مذکورہ بالا چار طریقوں سے اس نے انسانوں کو پیدا فرمادیا۔ جو اس کی قدرت و حکمت اور اس کی عظیم الشان خلاّقیت کا نشانِ اعظم ہے۔

سبحان اللہ! خداوند ِ قدوس کی شانِ خالقیت کی عظمت کا کیا کہنا؟ جس خلّاقِ عالم نے کرسی و عرش اور لوح و قلم اور زمین و آسمان کو ”کُن” فرما کر موجود فرما دیا اس کی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ کے حضور خلقتِ انسانی کی بھلا حقیقت و حیثیت ہی کیا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ تخلیق انسان اس قادر مطلق کا وہ تخلیقی شاہکار ہے کہ کائنات عالم میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ کیونکہ وجود انسان عالم خلق کی تمام مخلوقات کے نمونوں کا ایک جامع مرقع ہے۔ اللہ اکبر!کیا خوب ارشاد فرمایا۔ مولائے کائنات حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ  ؎

اَتَحْسِبُ اِنَّکَ جِرْمٌ صَغِیْرٌ               وَفِیْکَ اِنْطَوَی الْعَالَمُ الْاَکْبَرُ

ترجمہ:۔ اے انسان! کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے؟ حالانکہ تیری عظمت کا یہ حال ہے کہ تیرے اندر عالم اکبر سمٹا ہوا ہے۔

(۲)ممکن تھا کہ کوئی مرد یہ خیال کرتا کہ اگر ہم مردوں کی جماعت نہ ہوتی تو تنہا عورتوں سے کوئی انسان پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی طرح ممکن تھا کہ عورتوں کو یہ گمان ہوتا کہ اگر ہم عورتیں نہ ہوتیں تو تنہا مردوں سے کوئی انسان پیدا نہ ہوتا۔ اسی طرح ممکن تھا کہ عورت و مرد دونوں مل کر یہ ناز کرتے کہ اگر ہم مردوں اور عورتوں کا وجود نہ ہوتا تو کوئی انسان پیدا نہیں ہوسکتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے چاروں طریقوں سے انسانوں کو پیدا فرما کر عورتوں اور مردوں دونوں کا منہ بند کردیا کہ دیکھ لو، ہم ایسے قادر و قیوم ہیں کہ حضرت حواء علیہا السلام کو تنہا مرد یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا فرما دیا۔ لہٰذا اے عورتو! تم یہ گمان مت رکھو کہ اگر عورتیں نہ ہوتیں تو کوئی انسان پیدا نہ ہوتا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تنہا عورت کے شکم سے بغیر مرد کے پیدا

فرما کر مردوں کو تنبیہ فرما دی کہ اے مردو! تم یہ ناز نہ کرو کہ اگر تم نہ ہوتے تو انسانوں کی پیدائش نہیں ہو سکتی تھی۔ دیکھ لو! ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تنہا عورت کے شکم سے بغیر مرد کے پیدا فرمادیا۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے مٹی سے پیدا فرما کر عورتوں اور مردوں کا منہ بند فرمادیا کہ اے عورتو! اور مردو! تم کبھی بھی اپنے دل میں خیال نہ لانا کہ اگر ہم دونوں نہ ہوتے تو انسانوں کی جماعت پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ دیکھ لو!حضرت آدم علیہ السلام کے نہ باپ ہیں نہ ماں، بلکہ ہم نے ان کو مٹی سے پیدا فرمادیا۔سبحان اللہ!سچ فرمایا اللہ جل جلالہ نے کہ

اللہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّہُوَ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ ﴿16﴾ (پ 13،الرعد:16)

ترجمہ کنزالایمان:۔ اللہ ہر چیز کا بنا نے والا ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے

وہ جس کو چاہے اور جیسے چاہے اور جب چاہے پیدا فرما دیتا ہے۔ اس کے افعال اور اس کی قدرت کسی اسباب و علل، اور کسی خاص طور طریقوں کی بندشوں کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ  فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ہے۔ یعنی وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔

اس کی شان یَفْعَلُ اللہُ مَا یَشَاءُ وَیَفْعَلُ اللہُ مَا یُرِیْد ہے۔ یعنی جس چیز اور جس کام کا وہ ارادہ فرماتا ہے اسکو کرڈالتا ہے۔ نہ کوئی اسکی مشیت وارادہ میں دخل انداز ہو سکتا ہے، نہ کسی کو اسکے کسی کام میں چون و چرا کی مجال ہو سکتی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

Life of Sheikh Abdul Qadir Jilani by Mufti Khurram Rehmani

Islamic thoughts and facts

Life Of Shykh Abdul Qadir Jilani

محبوب سبحانی غوث اعظم السیدشیخ عبد القادرالجیلانی رحمۃ اللہ علیہ

الحمد للّٰہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین وَعلیٰ اٰلہٖ واصحابہ وعلماء امتہٖ واولیاءِ ملتہٖ اجمعین ۔اما بعد
فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ۔بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۝

آپکا اسم گرامی “سید عبد القادر” کنیت “ابو محمد” اور” لقب محی الدین” تھا۔آپ یکم رمضان المبارک470ھ میں ایران کےمشہور قصبہ “جیلان “میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد شیخ ابو صالح موسٰی اپنے وقت کے ولی کامل تھے۔آپکی والدہ کا نام ام الخیر فاطمہ تھا آپکی والدہ بھی نہایت متقی پرہیزگار عبادت گزار تھیں۔آپ نجیب الطرفین سید تھے۔جو والد اور والدہ دونوں کی طرف سے سید ہو اسے نجیب الطرفین سیدکہتے ہیں۔آپؒ والد کی طرف سے حسنی سید اور والدہ کی طرف سے حسینی سید تھے۔آپ ؒ کی ولادت سے قبل ہی آپؒ کے والد صاحب کو خواب میں رسول اللہ ﷺ کی کی زیارت نصیب ہوئی سرکار ﷺ نے آپکی ولادت کی بشارت اور عالی مرتبت ہونے کی نوید سنائی۔بچپن میں ہی والد صاحب کا انتقال ہوگیا والدہ ماجدہ نے تربیت کی ذمہ داری سنبھالی۔سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی نے ابتدائی تعلیم جیلان میں حاصل کی ۔مزید علم دین سیکھنے کی لگن آپکو جیلان سے بغداد لے گئی۔تقریباً 18 سال کی عمر میں آپ بغداد تشریف لائے اور اجلہ علماء و مشائخ کی صحبت سے فیضیاب ہوئے۔آپ نے انتہائی محنت اور لگن سے علم دین حاصل کیا۔علم کی راہ میں مشقت اٹھائی، کئی کئی دن کے فاقے برداشت کیے ،مگر زبان پر شکوہ آیا اور نہ ہی جذبۂ حصول علم دین میں کوئی کمی آئی۔پھر زمانہ نے وہ وقت بھی دیکھا کہ بغداد کی سرزمین پر آپ کےہم پلہ کوئی عالم دین نہ تھا ۔علم تفسیر ،حدیث اور فقہ سمیت تمام علومِ دینیہ میں آپکو مہارت تامہ حاصل تھی۔۔علم شریعت کے ساتھ ساتھ آپ نے علم طریقت بھی حاصل کیا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد 25 سال تک آپ بزرگان دین سے اکتساب فیض اورریاضت ومجاہدات میں مشغول رہے۔اپنی ریاضت اور مجاہدہ کے متعلق حضور غوث اعظم ؒ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے 40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی(یعنی آپ ؒسوتے نہیں تھے بلکہ رات بھر عبادت میں مشغول رہتے)۔اسی طرح آپ ؒ فرماتے ہیں 15 سال تک میرا یہ معمول تھا کہ عشاء کی نماز بعد تلاوت قرآن شروع کرتا اور فجر کی نماز تک ایک قرآن پاک مکمل کرلیتا تھا۔سبحان اللہ!۔
علوم ظاہری و باطنی میں کمال حاصل کرنے کے بعد آپ ؒ مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوئے اور وعظ و نصیحت کی محافل کا بھی آغاز کیا۔آپ کے درس میں طلباء کے ساتھ ساتھ اپنے زمانہ کے نامور علماء کرام بھی علم کے خزانے سمیٹنے حاضر ہوتے تھے۔یہی حال آپؒ کی محافل ِوعظ کا تھا جہاں10،10لاکھ افراد کا جم غفیر ہوتا اور صرف انسان ہی نہیں بلکہ جنات اور رجال الغیب بھی آپؒ کی محافل میں شریک ہوتے تھے۔حیرت کی بات ہےکہ آپؒ بغیر کسی مائیک اور لاؤڈ سپیکرکے دس لاکھ افراد کے مجمع سے خطاب فرماتےتھے اور مجلس میں شریک افراد قسم کھاکر بیان کرتے ہیں جس طرح پہلی صف کے افراد کو آواز آتی ویسی ہی صاف آواز آخری صف والےبھی سنتے تھے۔سبحان اللہ!
آپؒ کا زمانہ حکومتی بد انتظامی کے ساتھ بدعقیدگی کے فتنوں سے بھی بھرا پڑا تھا۔اس پر فتن دور میں آپ نے نہ صرف مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح فرمائی بلکہ انہیں شاہراہ سنتﷺ پر گامزن کیا۔باطل کی طرف سےاسلام پر ہونے والے ہر حملہ کا مسکت جواب دیا اوراسلام کا بھرپور دفاع فرمایا۔ آپ ؒ کی پر اثر تبلیغ کی بدولت کئی گمراہ تائب ہوکر متبع شریعت ہوئےاورکئی کافرحلقہ بگوش اسلام ہوئے۔آپ نے اپنے زمانہ کے امراء و سلاطین کی بھی اصلاح فرمائی عوام پر ظلم و ستم پر تنبیہ فرمائی حقوق کی بروقت ادائیگی پر زور دیا۔آپ کبھی بادشاہوں سے ملاقات کیلئے نہیں گئے بلکہ امراء و خلفاء و سلاطینِ وقت آپ کے آستانہ پر حاضری دیا کرتے اور آپ سے ملاقات کیلئے ترستے تھے۔
آپؒ کی زندگی کے تمام گوشے اتباع ِشریعت اور اطاعت ِرسول ﷺ سے معمور تھے ۔الغرض آپؒ کی ذات اقدس شریعت کا جلال،طریقت کا جمال،حقیقت کاکمال اور معرفت کی اعلیٰ مثال ہے۔آپ ؒ ولایت ومعرفت کے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتے ہیں۔آپ ؒ سے صادر ہونے والی کرامات حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں جو کہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں آپکی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔آپ ؒ کی سیرت کا مطالعہ ہمیں عمل کی ترغیب دیا ہے۔آپ کی حیات مبارکہ اور سیرت کے حوالے سے جتنا لکھا جائے وہ کم ہے۔یہ آفتابِ رشد و ہدایت ۹۱ سال کی عمر پا کرپردہ فرماگیامگر فیضان کا سلسلہ رکا نہیں۔ہزاروں سال گزر نے کے بعد بھی بغداد میں آپکا مزار مرجع خلائق ہے اور آج بھی مخلوق فیض حاصل کر رہی ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے درجات میں بلندی عطا فرمائے آپؒ کو اپنا قرب خاص عطا فرمائے اور ہمیں آپ ؒکے فیضان سے مستفیض فرماتے ہوئےآپکی سیرت مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین
مفتی ابو حمزہ محمد خرم اقبال رحمانی عفی عنہ
۱۱ ربیع الثانی۱۴۳۶ھ/یکم فروری ۲۰۱۵

Funeral of Prophet PBUH by Mufti Khurram Rehmani

Islamic thoughts and facts

Funeral Of Holy Prophet ﷺ

حضور اکرم ﷺ کی نمازجنازہ سے متعلق علماء فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی بلکہ مسلمان جماعت کی صورت میں حاضر ہوتے اور آپ ﷺ پر درود و سلام پڑھ کر چلے جاتے اور یہ آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔اخرج ابن سعد عن عبداﷲ بن محمد بن عبداﷲ بن عمر بن علی ابن ابی طالب عن ابیہ عن جدّہ عن علی رضی اﷲتعالٰی عنہ قال لماوضع رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم علی السریر قال لایقوم علیہ احد ھوامامکم حیّاً ومیّتاً فکان یدخل الناس رسلاً رسلاً فیصلون علیہ صفاصفا لیس لھم امام ویکبرون وعلی قائم بحیال رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یقول السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ اللھم انانشھدان قد بلغ ماانزل الیہ ونصح لامتہ وجاھدفی سبیل اﷲ حتی اعزاﷲ دینہ وتمّت کلمتہ اللھم فاجعلناممن تبع ماانزل الیہ وثبتنا بعدہ واجمع بینناوبینہ فیقول الناس اٰمین حتی صلی علیہ الرجال ثم النساء ثم الصبیان ۔

ترجمہ:ابن سعد نے عبداﷲ بن عبداﷲ بن عمر بن علی بن ابی طالب سے تخریج کی کہ انہوں نے اپنے والد سے بواسطہ اپنے دادا علی مرتضٰی رضی اﷲتعالٰی عنہ روایت کیا جب حضور پُر نور سیدّالمرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو غسل کے دے کر سریر منیر، پر لٹایا حضرت مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایاحضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے آگے کوئی امام بن کے کھڑا نہ ہوکہ وہ تمہارے امام ہیں اپنی دنیاوی زندگی میں بھی اور بعد وصال بھی۔ پس لوگ گروہ درگروہ حضور پر صلٰوۃ کرتے کوئی ان کا امام نہ تھا۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے سامنے کھڑے عرض کرتے تھے:سلام حضور پر اے نبی اوراﷲ کی رحمت اوراس کی برکتیں۔ الٰہی ! ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور نے پہنچادیا جو کچھ ان کی طرف اتاراگیا اور ہربات میں اپنی امّت کی بھلائی کی اور راہِ خدامیں جہاد فرمایا،یہاں تک کہ ا ﷲ عزوجل نے اپنے دین کو غالب کیا اور اﷲ کا قول پُورا ہوا۔ الٰہی ! تو ہم کو ان پر اتاری ہوئی کتاب کے پیرؤوں سے کر اوراُن کے بعد بھی اُن کے دین پر قائم رکھ اور روز ِقیامت ہمیں ان سے ملا۔حضرت علی یہ دعا کرتے اورحاضرین آمین کہتے، یہاں تک کہ اُن پر مردوں پھر عورتوں پھر لڑکوں نے صلٰوۃ کی ۔
(الطبقات الکبری لابن سعدذکرالصلٰوۃعلی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم دارصادر برضوت ۲ /۲۹۱)
حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:

از غسلتمونی وکفنتمونی علٰی سیریری ثم اخرجواعنی فان اول من یصلی علی جبرئیل ثم میکائیل ثم اسرافیل ثم ملک الموت مع جنودہٖ من الملٰئِکۃ باجمعھم ثم ادخلوا علی فوجافصلوا علی وسلموا تسلیما۔

ترجمہ:جب میرے غسل وکفن مبارک سے فارغ ہو میری نعش پلنگ پر رکھ کر باہر چلے جانا، سب میں پہلے جبرئیل مجھ پر صلٰوۃ کریں گے پھرمکائیل،پھراسرافیل،پھرملک الموت اپنے سارے لشکروں کے ساتھ، پھر گروہ گروہ میرے پاس حاضر ہوکر مجھ پر درود سلام عرض کرنا۔
( المستدرک علی الصحیحین کتاب المغازی دارالفکر بیروت ۳ /۶)